15 August
Afaq Siddiqui
صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ آفاق صدیقی

آفاق صدیقی

اردو اور سندھی کے معروف شاعر،ادیب اور مترجم جناب آفاق صدیقی کااصل نام محمد آفاق احمد صدیقی تھا اوروہ 4 مئی 1928ء کو شیخ پورہ ، ضلع فرخ آباد ،اترپردیش کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ سکھر میں آباد ہوئے اور انھوں نے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ جانب آفاق صدیقی کی مادری زبان اگرچہ اردو تھی لیکن انھیں فارسی، ہندی اور سندھی پر بھی دسترس حاصل تھی۔ شاید اسی بنا پر انھیں تحقیق اور ترجمے سے بھی رغبت تھی اور ان کے قریبی دوستوں کے مطابق انہوں نے چالیس کے لگ بھگ تصانیف چھوڑی ہیں جن میں اٹھارہ تصانیف سندھی زبان میں ہیں۔
ان کے تحقیقی کام اور تراجم کو اردو اور سندھی ادب کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ ان کی ان خدمات کی بنا پر انھیں سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک پل بھی قرار دیا جاتا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2005ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
جناب آفاق صدیقی کی تصانیف میں پاکستان ہمارا ہے، کوثر و تسنیم، قلب سراپا، ریزہ جاں، تاثرات، عکس لطیف، شاعر حق نوا، پیام لطیف، اقوال سچل، بساط ادب، بابائے اردو وادی مہران میں، ادب جھروکے، گلڈ کہانی، ادب گوشے، ریگزار کے موتی، ماروی کے دیس میں اور جدید سندھی ادب کے اردو تراجم شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری ’’صبح کرنا شام کا‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
جناب آفاق صدیقی نے 17جون 2012ء کو کراچی میں وفات پائی اور کراچی ہی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

UP