> <

1992-08-14
2159 Views
پرویز ملک پاکستان کے نامور فلمی ہدایت کار پرویز ملک 18 جولائی 1938ء کو اٹک میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پریذینٹیشن کالج راولپنڈی اور میری کلاسو اسکول کراچی سے حاصل کی جہاں وحید مراد، ان کے کلاس فیلو تھے۔ وحید مراد کے والد نثار مراد پاکستان کے مشہور فلمی تقسیم کار تھے۔ ان کے گھر آنے جانے سے پرویز ملک کو فلموں سے دلچسپی پیدا ہوئی اور وہ 1959ء میں امریکا چلے گئے جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا سے ایم اے سینما کا کورس مکمل کیا اور 1963ء میں وطن واپس آگئے۔ اس وقت تک وحید مراد اپنے فلم ساز ادارے فلم آرٹس کے تحت دو فلمیں انسان بدلتا ہے اور جب سے دیکھا ہے تمہیں بنا چکے تھے۔ اس کے علاوہ بطور اداکار وحید مراد کی دو فلمیں ساتھی اور اولاد بھی نمائش پذیر ہوچکی تھیں۔ پرویز ملک کے وطن واپس آنے کے بعد وحید مراد نے ان کے ساتھ فلم ہیرا اور پتھر بنانے کی منصوبہ بندی کی اور نغمہ نگار مسرور انور اور موسیقارسہیل رعنا کو ان سے متعارف کروایا۔ ان چاروں باصلاحیت افراد کے یکجا ہونے سے فلم آرٹس کی پہلی فلم ہیرا اور پتھر وجود میں آئی جو بے حد کامیاب رہی۔ پرویز ملک اس فلم کے ہدایت کار تھے۔ اس کے بعد پرویز ملک نے فلم آرٹس کے بینر تلے کئی یادگار فلمیں تخلیق کیں جن میں ارمان، احسان اور دوراہا کے نام سرفہرست ہیں۔ پرویز ملک نے مجموعی طور پر 26 فلمیں بنائیں جن میں سے 5 فلموں انمول، پہچان، تلاش، ہم دونوں اور قربانی نے ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ دو فلموں ارمان اور پاکیزہ نے پلاٹینم جوبلی، 10 فلموں ہیرا اور پتھر، میرے ہمسفر، دشمن، سچائی، مہمان، انتخاب، رشتہ، مہربانی، کامیابی اور ہلچل نے گولڈن جوبلی اور 7 فلموں احسان، دوراہا، جہاں تم وہاں ہم، سوغات، گمنام، زنجیر اور غریبوں کا بادشاہ نے سلور جوبلی مکمل کی۔ان کی صرف دو فلمیں اسے دیکھا اسے چاہا اور شہزادہ ناکام ہوئیں۔ شہزادہ کی ناکامی کے بعد وہ فلمی دنیا سے کنارہ کش ہوگئے تھے اور انہوں نے ٹی وی ڈرامہ سیریلز بنانے شروع کردیئے تھے۔ پرویز ملک ان چند ہدایت کاروں میں سے ایک تھے جو فلم کو’’آرٹ‘‘ سمجھتے تھے۔ وہ ایک وقت میں ایک ہی فلم کی ہدایات دینے کے اصول پر یقین رکھتے تھے۔ وہ سال بھر میں ایک سے زیادہ فلمیں نہیں بناتے تھے، شاید اسی لئے ان کی اکثر فلموں کا شمار سال کی بہترین فلموں میں ہوتا تھا۔ پرویز ملک کی فلمیں اسٹار ویلیو پر نہیں بکتی تھیں ان کی فلم کی شناخت یہ ہوتی تھی کہ اس کے ہدایت کار پرویز ملک ہیں۔ حکومت پاکستان نے پرویز ملک کو 14 اگست 1992ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ پہلے فلمی ہدایت کار تھے جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ 18 نومبر 2008ء کو پرویز ملک اسلام آباد میں وفات پاگئے۔  
1998-08-14
1914 Views
رضا میر پاکستان کے مشہور فلمی عکاس، ہدایت کار اور فلم ساز رضا میر 1927ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز اسسٹنٹ کیمرہ مین کی حیثیت سے کیا اور قیام پاکستان سے پہلے بننے والی ایک فلم شہر سے دور میں ہیرو کا کردار بھی عطا کیا۔ اسی زمانے ان کی شادی مینا شوری سے ہوئی مگر مینا شوری کی سیماب صفت طبیعت کی وجہ سے یہ شادی زیادہ عرصے جاری نہ رہ سکی۔ 1948ء میں انہیںپاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ میں بطور عکاس کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے جن دیگر فلموں کی عکاسی کی ان میں انوکھی داستان، جدائی، بھیگی پلکیں، دلبر، شہری بابو، گلنار، التجا، دھوپ چھاؤں، چنگیز خان، لخت جگر، ماہی منڈا، یکے والی، نیا دور، نیند، سیما، آخری نشان اور آگ کا دریا جیسی فلمیں شامل تھیں۔ ان میں آخری تین فلموں پر انہوں نے بہترین عکاس کے نگار ایوارڈز بھی حاصل کئے۔ بعدازاں وہ ہدایت کاری کے شعبے کی طرف آگئے جہاں انہوں نے پاکستان کی فلمی تاریخ کی بڑی یادگار فلمیں بنائیں۔ بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم ’’بیٹی‘‘ تھی جو اپنی خوب صورت موسیقی اور کہانی کی وجہ سے بے حد پسند کی گئی۔ 1967ء میں انہوں نے فلم ساز افضل حسین کی فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کی ہدایات دیں جس نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ ان کی دیگر فلموں میں آسرا، انیلا،پرائی آگ، ناگ منی، وچھڑیا ساتھی، پروفیسر ، سوہنی مہینوال،دل کے داغ، سوہنا ویر، انہونی اور بلندی شامل تھے۔ حکومت پاکستان نے ان کی فلمی خدمات کے طور پر انہیں 14 اگست 1998ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ رضا میر16 ستمبر 2002ء کو کینیڈا میں وفات پاگئے۔وہ کراچی میں آسودہ خاک ہیں۔  
2002-08-14
6589 Views
 منیزہ ہاشمی پاکستان کی معروف میڈیا پرسن منیزہ ہاشمی فیض احمد فیض کی چھوٹی صاحب زادی ہیں۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن میں بطور اسسٹنٹ پروڈیوسر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور اور پھر ڈائرکٹر پروگرامز کے عہدے تک ترقی کی۔ اس وقت ایک نجی چینل سے بطور کنسلٹنٹ وابستہ ہیں۔ ایک کتاب  Who am I کی مصنفہ ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2002ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
2007-08-14
3166 Views
عبدالکریم بلوچ پاکستان ٹیلی وژن کے معروف ڈائرکٹر اور منتظم عبدالکریم بلوچ 1938ء میں کراچی میں پیدا ہوئے تاہم جلد ہی وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کوٹری میں مقیم ہوگئے۔ انھوں نے سندھ یونیورسٹی ، جامشورو سے سندھی ادب میں ایم اے کیا اور پہلے ریڈیو پاکستان ، حیدرآباد اور پھر کراچی ٹیلی وژن سے وابستہ ہوئے۔ انھوں نے پشاور اور کوئٹہ مراکز پر بھی خدمات انجام دیں۔ 7 اگست 2008ء کو ان کا انتقال ہوگیا اور وہ کوٹری میں آسودہ خاک ہوئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2007ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ پاکستان کے نامور اداکار ساقی ان کے حقیقی بھائی تھے۔
UP