> <

1986-08-14
5235 Views
اظہر لودھی ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وڑن  کے مشہور براڈکاسٹر اور نیوز کاسٹر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ گورڈن کالج راولپنڈی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ 1966ء سے پاکستان ٹیلی وژن سے خبریں پڑھنی شروع کیں۔ بعض ڈراموں میں اداکاری بھی کی۔ نیوز کاسٹنگ کے علاوہ کمپیئرنگ کے شعبے میں بھی نام پیدا کیا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے بعض اہم انتظامی عہدوں پر بھی فائز رہے۔ 14 اگست 1986ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔
1988-08-14
6726 Views
شائستہ زید پاکستان ٹیلی وژن کی معروف نیوز کاسٹر 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ ہونے والی شائستہ زید اپنی خوبصورت شخصیت، خوش لباسی اور بہترین تلفظ کی وجہ سے انگریزی خبریں پڑھنے میں خصوصی مقام رکھتی تھیں۔ 21 جولائی 2012ء کو انہوں نے آخری بار پاکستان ٹیلی ویڑن سے انگریزی بلیٹن پڑھا اورچار عشروں سے زائد عرصے تک انگریزی خبریں پڑھنے کے بعد سبک دوش ہو گئیں۔ حکومت پاکستان نے شائستہ زید کو 14 اگست 1988ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
1989-08-14
2357 Views
امیر خان ریڈیو پاکستان کے نامور صداکار امیر خان اسٹیج اور ریڈیو کی ایک شاندار روایت کے امین تھے۔ وہ 1938 میں آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی۔ ریڈیو پاکستان کی مشہور ڈرامہ سیریز حامد میاں کے ہاں میں انہوں نے تیس برس سے زیادہ عرصے تک مرکزی کردار ادا کیا۔ 14 اگست 1989ء کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ امیر خان نے 23 جنوری 1992 کو کراچی میں وفات پائی۔
1993-08-14
2785 Views
عبدالسلام عبدالسلام ریڈیو اور ٹیلی وژن کے معروف نیوز کاسٹر تھے۔ پاکستا ن میں ریڈیو پاکستان کو دراصل نشریاتی اداروں کی ماں کہاجاتاہے۔ اپنی 67سالہ تاریخ میں ادارے نے شکیل احمد ، انور بہزاد ، وراثت مرزا ، شمیم اعجاز اور عبد السلام جیسے لیجنڈ نیو زکاسٹر پیدا کئے۔ لمبی لیکن بھاری مدھر مردانہ آواز کے ساتھ عبد السلام نے نہ صرف ریڈیو پاکستان پر کئی سال تک حکمرانی کی بلکہ انہوں نے پی ٹی وی کی اسکرین پر ناظرین اور حاضرین کو اپنی مسحور کن آواز کے جادو میں جکڑے رکھا۔ عبدالسلام متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان کے ہاں اجمیر شریف میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان حید رآباد میں تکنیکی آپریٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی تاہم اس شعبے کو انہوں نے اپنے لئے موزوں نہ پایا۔ ایک محنتی فنکار ہونے کے ناتے ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ ان کی آواز لاکھوں لوگوں میں سنی جاسکے۔ عبدالسلام نے اپنے بطور نیوز کاسٹر تقرر کے بعد اپنی مستقل ملازمت سے استعفیٰ دیدیا اور ریڈیو پاکستان کے سنٹرل نیوز آرگنائزیشن (سی این او)میں عارضی بنیادو ں پر شمولیت اختیار کر لی۔ تکنیکی آپریٹر کے طور پر خو د کو موزوں نہ پانے والے شخص نے خو د کو مائیک کیلئے انتہائی موزوں ثابت کر دکھایا۔ وہ سٹاف آرٹسٹ بن گئے اور بعد ازاں ان کا باقاعدہ تقررکر لیاگیا۔ عبدالسلام ہمیشہ اپنے ساتھیوں ، چاہے وہ سینئر ہو یا جونیئر ، کے ساتھ مسکراتے چہرے کے ساتھ ملتے تھے۔تمام لوگ اْن سے محبت کرتے اور ان کا احترام کرتے تھے۔ عبدالسلام نے اپنی آخری بڑی خبریں29جون 1992کو رات 8بجے پڑھیں۔ خبریں پڑھنے کے بعد اپنے ویسپا پر و ہ براڈ کاسٹنگ ہائوس سے روانہ ہوئے۔بمشکل 100گز کا فاصلہ طے کیاہوگا کہ پیچھے سے ایک تیزرفتار موٹرسائیکل نے انہیں ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ وہ دو روز تک کومے میں رہنے کے بعد 2جولائی 1992ء کو انتقال کر گئے۔     عبدالسلا م کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ریڈیو پاکستان نے ان کی خبروں کے آغازیہ اعلان کی ریکارڈنگ کو اپنے نیو ز بلیٹن کی مستقل خصوصیات کا حصہ بنادیاہے۔عبدالسلام کو14 اگست 1993ء کو بعد ازمرگ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نواز ا گیا۔
UP