> <

سجاد باقر رضوی کی وفات

سجاد باقر رضوی ٭ اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، مترجم اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سجاد باقر رضوی  4 اکتوبر 1928ء کو پھول پور ضلع اعظم گڑھ (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے کراچی میں قیام اختیار کیا اور کراچی یونیورسٹی سے بی اے آنرز اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں پھر انہوں نے اسی یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی بھی کیا بعدازاں وہ لاہور منتقل ہوگئے جہاں وہ اسلامیہ کالج سول لائنز اور اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ ڈاکٹر سجاد باقر رضوی کا شمار اردو کے ترقی پسند نقادوں میں ہوتا ہے اور ان کی تنقیدی کتب مغرب کے تنقیدی اصول اور تہذیب و تخلیق اردو تنقید کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’تیشۂ لفظ‘‘ اور ’’جوئے معانی‘‘ شامل ہیں جبکہ ان کے تراجم میں داستان مغلیہ، افتاد گان خاک، حضرت بلال اور بدلتی دنیا کے تقاضے کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پی ایچ ڈی کا مقالہ طنز و مزاح کے نظریاتی مباحث اور کلاسیکی اردو شاعری 1857ء تک بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ ٭13 اگست 1992ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، مترجم اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سجاد باقر رضوی لاہور میں وفات پاگئے۔ ڈاکٹر سجاد باقر رضوی لاہور میں ماڈل ٹائون کے جی بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

UP