> <

محمود صدیقی کی وفات

محمود صدیقی ٭4 اگست 2000ء کو ٹیلی وژن اور ریڈیو کے معروف فن کار محمود صدیقی کراچی میں وفات پاگئے۔ محمود صدیقی 1944ء میں سکھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد انہیں عالم دین بنانا چاہتے تھے لیکن وہ سیاست کی جانب مائل تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور شیخ ایاز کے جونیئر کے طور پر وکالت کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے کچھ وقت ریڈیو پاکستان میں انائونسمنٹ بھی کی اور کچھ عرصہ کے لئے روزنامہ ’’ہلال پاکستان‘‘ میں بھی کام کیا۔ 1973ء میں محمود صدیقی نے پاکستان ٹیلی وژن کے سندھی ڈرامہ بدمعاش سے اپنی ٹیلی وژن کیریئر کا آغاز کیا اور زینت، گلن وار چوکری، تلاش اور رانی جی کہانی میں کام کرکے مقبولیت حاصل کی۔ رانی جی کہانی کو بعد میں ’’دیواریں‘‘ کے نام سے اردو میں بھی پیش کیا گیا جس کے بعدمحمود صدیقی نے ملک گیر شہرت حاصل کرلی۔ بعدازاں اردو ڈرامہ سیریل جنگل ، قربتوں کی تلاش، دنیا دیوانی اور کارواں نے ان کی شہرت کو مزید استحکام بخشا۔ کارواں میں انہوں نے بہترین اداکار کا پی ٹی وی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے نہلے پہ دہلا کے نام سے ایک سیریل بھی بنائی تھی جسے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل نے تین مرتبہ نشر کیا مگر محمود صدیقی کو اس سیریل کے بدلے میں طے شدہ رقم کا صرف دس فیصد حصہ ادا کیا۔محمود صدیقی نے یہ سیریل قرض لے کر بنایا تھا چنانچہ وہ ان مالی مشکلات سے بے حد دلبرداشتہ ہوئے اور اسی غم میں وفات پاگئے۔ محمود صدیقی کراچی میں ڈالمیا کے نزدیک واقع قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

UP