> <

آئین میں اٹھارویں ترمیم کی منظوری

آئین پاکستان ٭8 اپریل 2010ء کو قومی اسمبلی نے اپنے تاریخی اجلاس میں آئین میں کی گئی آمرانہ ترامیم ختم کرنے کے لیے 18 ویں آئینی ترمیمی بل کی دو تہائی اکثریت سے زیادہ ارکان کی حمایت سے متفقہ منظوری دے دی جس کے بعد آئین سے آمریت کے ثبت کردہ نقوش ختم کردیئے گئے اور ملک میں اصلی طور پر پارلیمانی جمہوریت بحال کردی گئی۔ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعہ مسلح افواج کے سربراہان کے تقرر سمیت صوبوں کے گورنرز کی تقرری اور اسمبلی کی تحلیل کے صدر اور گورنر کے صوابدیدی اختیار ختم ہوگئے اور صدر کے بیشتر اہم اختیارات، وزیراعظم کو منتقل ہوگئے۔ 1973ء کے آئین سے بالآخر جنرل ضیاء الحق کا نام خارج کردیا گیا جبکہ 58 ٹوبی، 17 ویں ترمیم، ایل ایف او اور کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کردیا گیا اور سینٹ کے ارکان کی تعداد بڑھا کر 104 کردی گئی۔ آئین میں کی جانے والی اٹھارویں ترمیم کے مطابق اعلیٰ ججز کی تقرری کے لیے جہاں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا وہیں اس مقصد کے لیے 8 رکنی پارلیمانی کمیشن بھی بنے گا۔ اٹھارویں ترمیم میں آئین توڑنے کے اقدام کو بغاوت قرار دے دیا گیا اور اب آئین کی معطلی کو عدالت سے بھی جائز قرار نہیں دلوایا جاسکے گا۔ اٹھارویں ترمیم کے ذریعہ مشرف دور کی 3 نومبر 2007ء کو نافذ کی جانے والی ایمرجنسی اور پی سی او کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا اور اسی ترمیم کے ذریعہ صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبرپختونخوا رکھ دیا گیا ۔        

UP