> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ منی بیگم

 منی بیگم پاکستان کی نامور گلوکارہ منی بیگم کا اصل نام نادرہ ہے۔ ان کی پیدائش مرشدآباد، مغربی بنگال (انڈیا) میں ہوئی۔ انھیں بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ تھا۔ جس کو مدنظررکھتے ہوئے ان کے والدین نے انھیں چھوٹی عمرمیں ہی موسیقی کی تعلیم کے لیے استاد خواجہ غلام مصطفیٰ وارثی کی شاگردی میں دے دیا۔ اس کے ساتھ منی بیگم تین سال تک موسیقی کے اسکول میں بھی باقاعدہ تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ 1950ء میں ان کے والدین ہجرت کرکے مشرقی پاکستان میں آباد ہوگئے ۔ 1971ء میں منی بیگم اپنے والدین کے ہمراہ کراچی آگئے جہاں سے انھوں نے موسیقی کا باقاعدہ آغازکیا۔ ان کی پہلی البم 1976ء میں ریلیز ہوئی۔اس پہلے ہی البم نے منی بیگم کو شہرت کی ایسی بلندیوں پرپہنچا دیا جس کے لیے لوگوں کو برسوں کام کرنا پڑتا ہے۔ منی بیگم کی مقبول غزلوں میں ’’جھوم برابر جھوم، ہرقدم زحمتیں، تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے، اک بار مسکرادو، آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے، بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے، بھولنے والے سے کوئی کہہ دے، ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا، بجھی  ہوئی شمع کا دھواں، مریض محبت انھی کا فسانہ‘‘ سمیت دیگرشامل ہیں۔ منی بیگم نے اپنے طویل فنی کیرئیرکے دوران پاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک میں پرفارم کیا جہاں ان کے منفرداندازکو بہت سراہا گیا بلکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی بہت سی فلموں میں منی بیگم کی غزلوں کو گیتوں کے انداز میں شامل کیا گیا۔ حکومت پاکستان نے منی بیگم کوطویل فنی خدمات کے اعتراف میں 14 اگست 2008 ء کو ’’صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔ منی بیگم اب امریکا میں رہتی ہیں لیکن اپنی فیملی سے ملنے اورمیوزک کنسرٹس میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آتی رہتی ہیں۔

UP