> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ استاد رئیس خان

استاد رئیس خان پاکستان کے معروف ستار نواز استاد رئیس خان 25 نومبر 1939ء کو اندور میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ممتاز ستار نواز، عنایت علی خان کی بیٹی اور ولایت خان کی بڑی بہن تھیں۔ استاد رئیس خان نے موسیقی کی تربیت اپنے ماموں ولایت خان اور والد محمد خان سے حاصل کی۔ ستار نوازی میں ان کا خاندان میوات گھرانہ کہلاتا ہے۔ پانچ برس کی عمر میں پہلی پرفارمینس دی۔ بمبئی کے سندر بائی ہال میں، جس مجمع کے سامنے فن کا مظاہرہ کیا، اْس میں شہر کے گورنر، مہاراجا سنگھ اور لیڈی مہاراجا سنگھ بھی شامل تھے۔ چند ہی برس میں اْنھوں نے شایقین فن کے دلوں میں گھر کر لیا اور موسیقی کی محفلوں میں مدعو کیے جانے لگے۔ شہرت کو سرحدیں عبور کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ پہلا غیرملکی دورہ پولینڈ کا تھا۔ پھر روس کا رخ کیا۔ یورپ کے کئی ملکوں میں پرفارم کیا۔ 1963ء میں رئیس صاحب پہلی بار پاکستان آئے اور کراچی میں پرفارم کیا۔ 1986ء میں جب وہ مقبولیت کے اوج پر تھے اور چار سُو ان کے نام کا ڈنکا بج رہا تھا، اُنھوں نے ہندوستان چھوڑ دیا اور پاکستان آگئے۔ محبت کا تجربہ اِس فیصلے کا سبب بنا۔ 1979ء میں اُن کی معروف پاکستانی گلوکارہ بلقیس خانم سے ملاقات ہوئی۔ 1980ء میں اُن کی شادی ہوگئی۔ ان کے فن کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں 14 اگست 2005 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP