> <

صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔ سرشار صدیقی

سرشار صدیقی اُردو زبان کے ممتاز شاعر، ادیب اور کالم نگار سرشار صدیقی کا اصل نام اسرار حسین محمد ارمان تھا۔ 25 دسمبر1925 ء کو کانپور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ والد اولاد حسین ممتاز طبیب تھے اور طبیہ کالج دہلی میں اْستاد تھے۔ سرشار صدیقی نے میٹرک کلکتہ سے جب کہ انٹر حلیم مسلم کالج کانپور سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1950 میں پاکستان آئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور مختلف اخبارات میں کالم نگاری کرتے رہے۔ 1955ء میں وہ نیشنل بنک میں ملازم ہوئے اور1984 ء میں ریٹائر ہوئے۔ علامہ نیاز فتح پوری کے مجلے ’’نگار‘‘ کی مجلس ادارت سے آخری وقت تک وابستہ رہے۔ وہ ترقی پسند تحریک، پاکستان کیمونسٹ پارٹی اور پاکستان رائٹرز گلڈ سے بھی وابستہ رہے۔ سرشار صدیقی کے شعری مجموعوں میںپتھر کی لکیر، زخم گل، ابجد، بے نام،خزاں کی آخری شام، اساس، میثاق، آموختہ اور اعتبار کے نام شامل تھے جبکہ ان کے نثری مجموعے ارتقا،حرف مکرر، اجمال، ناتراشیدہ اور رفتگاں کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔ سرشار صدیقی نے  7 ستمبر 2014ء کو وفات پائی اور اسی روز ڈالمیا سیمنٹ فیکٹری کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2011ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

UP