> <

حسن رضا دنیا کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر بنے

حسن رضا ٭24 اکتوبر 1996ء کو فیصل آباد میں زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے کھلاڑی حسن رضا نے ٹیسٹ کیپ حاصل کرکے دنیا کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ اس دن ان کی عمر 14 سال 228 دن تھی۔ حسن رضا سے پہلے پاکستان کے تین کھلاڑی، دنیا کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کرچکے تھے۔ حسن رضا سے پہلے مشتاق محمد، مشتاق محمد سے پہلے نسیم الغنی اور نسیم الغنی سے پہلے یہ اعزاز خالد حسن کے پاس تھا۔  مشتاق محمد نے اپنا پہلا ٹیسٹ 26 مارچ 1959ء کو کھیلا، اس وقت ان کی عمر 15 سال 124 دن تھی۔ نسیم الغنی نے اپنا پہلا ٹیسٹ 17 جنوری 1958ء کو کھیلا۔ اس وقت ان کی عمر 16 سال 248 دن تھی اور خالد حسن نے اپنا پہلا ٹیسٹ یکم جولائی 1954ء کو کھیلا۔ اس وقت ان کی عمر 16 سال 352 دن تھی یوں یکم جولائی 1954ء سے آج تک دنیا کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کھلاڑی کا اعزاز مسلسل پاکستان ہی کے پاس ہے۔ حسن رضا نے دنیا کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا اعزاز 24 اکتوبر 1996ء کو حاصل کیا۔ اس کے چند روز بعد 30 اکتوبر 1996ء کو انہوں نے 14 سال 234 دن کی عمرمیں کوئٹہ میں زمبابوے کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیل کر ایک روزہ میچوں کے بھی سب سے کم عمر کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ حسن رضا سے پہلے عاقب جاوید، جاوید میاں داد اور وسیم راجہ بھی اپنے اپنے زمانے میں یہ اعزاز حاصل کرچکے تھے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں دنیا کے سب سے کم عمر کرکٹر قاسم فیروز کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا فرسٹ کلاس کرکٹ میچ 19 جنوری 1971ء کو کھیلا تھا۔ یہ بی سی سی پی ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ تھا جس میں انہوں نے کراچی وہائٹس کے خلاف بہاولپور کی نمائندگی کی تھی۔ اس وقت قاسم فیروز کی عمر 12 سال 363 دن تھی۔    

UP